بدھ، 29 نومبر، 2023

سندھ اور بلوچستان کے بعد پنجاب میں بھی بادل برسنے کو تیار

سندھ اور بلوچستان کے بعد پنجاب میں بھی بادل برسنے کو تیار


 محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران خطہ پوٹھوہار سمیت شمال مشرقی پنجاب ،بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اورکشمیر میں آندھی،تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برف باری کا امکان ہے۔ اس دوران چند مقا مات پر ژالہ باری کی بھی توقع ہے۔پنجاب کے وسطی،جنوبی علاقوں اور بالائی سندھ میں صبح کے اوقات میں سموگ اور دھند چھائے رہنے کا امکان ہے۔


گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشترعلاقوں میں موسم سرد اور خشک رہا۔اس دوران ملک میں کم سے کم درجہ حرارت لہہ منفی 3 ، گوپس منفی 2 ، کالام، قلات اور سکردو میں منفی ایک ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

عمران خان کے وکیل اور پی ٹی آئی رہنماوں کے متضاد بیانات، حقیقت کیا ہے؟


 عمران خان کے وکیل اور پی ٹی آئی رہنماوں کے متضاد بیانات، حقیقت کیا ہے؟

تحریک انصاف کے پارٹی الیکشن میں عمران خان کے حصہ لینے یا نہ لینے سے متعلق متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں، بیرسٹر ظفر علی نے کہا کہ چیئرمین عمران خان 2 دسمبر کو انٹراپارٹی الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے جبکہ لطیف کھوسہ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان انٹراپارٹی الیکشن میں حصہ لیں گے ۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کےمطابق پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما بیرسٹر علی ظفر نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم 2 دسمبر کو انٹر اپارٹی الیکشن کروانے جارہے ہیں اور عمران خان اس میں حصہ نہیں لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹر اپارٹی الیکشن لڑنے سے متعلق عمران خان سے مشاورت کی گئی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف صرف توشہ خانہ کیس میں فیصلہ ہواہے ،توشہ خانہ کیس میں سزا ماتحت عدلیہ نے سنائی جو غیر آئینی ہے ،توشہ خانہ کیس میں جو الزام لگایا گیا اس پر نااہلی نہیں ہو سکتی، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے انٹر پارٹی الیکشن کروانے کی منظوری دیدی ہے ،انہوں نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو کوئی بہانہ نہیں دینا چاہتے، ہم خطرہ مول نہیں لے سکتے کہ ہمیں بلے کا نشان نہ ملے۔
اس سے کچھ دیر قبل عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے ڈیڑھ گھنٹہ بات ہوئی۔ لطیف کھوسہ نے عمران خان کے پارٹی الیکشن میں حصہ نہ لینے کی تردید کی اور کہا کہ عمران خان پارٹی الیکشن میں حصہ لیں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان پارٹی الیکشن میں حصہ لیں گے یا نہیں، دونوں رہنماؤں کے بیانات ایک دوسرے کے مخالف موقف پیش کر رہے ہیں، حقیقت کیا ہے، متضاد بیانات نے صورتحال مشکوک بنا دی

منگل، 28 نومبر، 2023

اٹلس ہونڈا نے پاکستانیوں کے لیےبڑا اعلان کردیا


 

اٹلس ہونڈا نے پاکستانیوں کے لیےبڑا اعلان کردیا

اٹلس ہونڈا نے پاکستان میں کاروبار کے 60سال مکمل ہونے پرالیکٹرک بائیک متعارف کرانے کا اعلان کردیا۔
اٹلس ہونڈا کے پاکستان میں کاروبار کے 60سال مکمل ہونے کے موقع پر شیخوپورہ فیکٹری میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ایگزیکٹیو وائس پریزیڈینٹ ہونڈا موٹر کمپنی شنجی آیوما، چیف آفیسر موٹرسائیکل اینڈ پاور پراڈکٹس ابے نوریاکی اور دیگر نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں ابے نوریاکی نے کہا کہ ہونڈا کی مصنوعات پاکستان کی آبادی کے بڑے طبقے کی روز مرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے ہونڈا کی الیکٹرک موٹرسائیکل ہونڈا ای بینلے آزمائشی بنیادوں پر پاکستان میں متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا۔اٹلس ہونڈا کے صدر اور سی ای او ثاقب ایچ شیرازی نے کمپنی کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے فروخت، لوکلائزیشن، پرزہ جات کے کاروبار، روزگار اور قومی خزانے کو ٹیکسوں کی ادائیگی کا احاطہ کیا۔

اعلانِ بالفور: ’فلسطین-اسرائیل تنازع کا ذمہ دار برطانیہ کو ٹھہرانا چاہیے‘

 



اعلانِ بالفور: ’فلسطین-اسرائیل تنازع کا ذمہ دار برطانیہ کو ٹھہرانا چاہیے‘

موجودہ فلسطین-اسرائیل تنازع کی تاریخ 20ویں صدی میں اس وقت تک جاتی ہے جب برطانیہ نے اس خطے میں قدم رکھا تھا۔ اس وقت فلسطین کی آبادی متنوع تھی جس میں 7 لاکھ عرب، 85 ہزار یہودی اور کم تعداد میں وہ عیسائی بھی موجود تھے جن کے آباؤاجداد صدیوں سے اسی سرزمین پر آباد تھے۔
ابتدائی طور پر یہودی آبادی یروشلم اور صفد تک محدود تھی اور ان کی توجہ شہری اقتصادی سرگرمیوں پر مرکوز تھی جبکہ دوسری جانب زرعی شعبہ عربوں کے ہاتھ میں تھا۔


اس وقت کے برطانوی مینڈیٹ فلسطین میں یہودی آباد کاری کے خلاف فلسطینیوں کا احتجاجی اجلاس
اس وقت کے برطانوی مینڈیٹ فلسطین میں یہودی آباد کاری کے خلاف فلسطینیوں کا احتجاجی اجلاس

سیاسی صہیونیت کی ابتدا

ویانا کے یہودی صحافی تھیوڈور ہرزل نے سیاسی صہیونیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کا ماننا تھا کہ یہودی ایک الگ قوم ہیں اور صدیوں سے ان پر جاری ظلم وستم سے بچنے کا واحد حل، ان کی اپنی مملکت کا قیام ہے۔

صہیونیت کے بانی رہنماؤں نے یہودیوں کے لیے ریاست کی ممکنہ زمین دیکھنے کے لیے یوگانڈا اور یمن کے سوکوترا جزیرے سمیت مختلف ریاستوں کا دورہ کیا تاہم تاریخی اور مذہبی اہمیت کی وجہ سے انہوں نے فلسطین کو ترجیح دی۔

یہودی صحافی تھیوڈور ہرزل نے صہیونی سیاست کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا—تصویر: وکیپیڈیا

یہودی صحافی تھیوڈور ہرزل نے صہیونی سیاست کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا—تصویر: وکیپیڈیا

اعلانِ بالفور

1917ء میں پہلی جنگِ عظیم کے دوران برطانوی حکومت نے ایک اہم فیصلہ کیا۔ انہوں نے یہودیوں سے وعدہ کیا کہ وہ انہیں فلسطین میں زمین دیں گے لیکن اس کے بدلے یہودیوں کو جنگ میں برطانیہ کا ساتھ دینا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی عربوں کی عسکری اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے برطانیہ نے عہد کیا کہ وہ اس خطے میں آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرے گا، جہاں پہلے سلطنتِ عثمانیہ کی حکومت تھی جن میں خاص طور پر فلسطین شامل تھا۔

آرتھر جیمز بالفور (بائیں) کی جانب سے لائیونل والٹر راٹسچائلڈ (دائیں) کو لکھاجانے والا خط، یہی اعلان بالفور کہلاتا ہے— تصاویر: وکیپیڈیا
آرتھر جیمز بالفور (بائیں) کی جانب سے لائیونل والٹر راٹسچائلڈ (دائیں) کو لکھاجانے والا خط، یہی اعلان بالفور کہلاتا ہے— تصاویر: وکیپیڈیا

2 نومبر 1917ء کو برطانوی حکومت نے اعلانِ بالفور کے ذریعے اپنے ارادوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فلسطین میں یہودیوں کی سرزمین کے قیام کے حق میں ہے۔ اعلان بالفور برطانیہ کے قدامت پسند سیاستدان اور مصنف لارڈ آرتھر بالفور کے نام سے منسوب ہے۔ اس اعلان میں خطے میں بسنے والی غیریہودی آبادی کے شہری، مذہبی اور سیاسی حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔

اعلانِ بالفور نے فلسطین میں یہودی آبادکاری کی حمایت کرنے کا اعادہ کیا، یہی اعلان ایک پیچیدہ تاریخی میراث کی ابتدا ثابت ہوا۔ اگرچہ یہ یہودیوں کے لیے اپنی ریاست کے خواب کی تعبیر تھی لیکن اس اعلان نے فسلطینیوں کو جدوجہد اور نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا۔

یہاں تک کہ برطانوی کابینہ کے یہودی رکن ایڈون مونٹاگو نے صہیونیت کو ایک غلط سیاسی عقیدہ قرار دیا جوکہ یہود دشمنی کو فروغ دے سکتا ہے۔

عربوں نے فوری طور پر اعلانِ بالفور کی مخالفت کی جبکہ برطانیہ کی وار کیبنٹ سے بھی اس اعلان کی صداقت پر سوالات اٹھائے گئے۔ اس کے باوجود برطانوی حکومت نے یہ اعلان جاری کرنے کا انتخاب کیا اور تنازعات کے لیے محاذ کھول دیا۔

فلسطین کی تقسیم

پہلی جنگِ عظیم کے بعد ورسائے معاہدے میں برطانوی اور فرانسیسی راج نے فلسطین کو آپس میں بانٹ لیا۔ برطانوی افواج نے فلسطین پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا اور ابتدائی طور پر عثمانی سلطنت سے آزادی دلانے والوں کے طور پر ان افواج کا استقبال کیا گیا۔ گورننس اور انفرااسٹرکچر میں صہیونیوں کی مدد کرکے برطانیہ نے اپنا وعدہ پورا کیا۔

ہربرٹ سیموئل کی تعیناتی کے بعد سرکاری طور پر یہودی ریاست کے قیام کی حمایت کی جانے لگی۔ وہ ایک پکے صہیونی تھے جوکہ فلسطین میں برطانیہ کے پہلے ہائی کمشنر تھے۔ وہ اس علاقے کے انتظامی ذمہ دار تھے۔

برطانوی حمایت یافتہ صہیونی منصوبہ اہم زمینی تبدیلیاں لے کر آیا۔ فلسطین میں زمین کے مالکان جوکہ دوسرے خطوں جیسے دمشق اور بیروت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے، انہوں نے اپنی زمینیں فروخت کردیں۔ اس فروخت نے بہت سے فلسطینی ورکرز کو اپنے گھروں سے بےدخل کیا اور بہت سے پناہ گزین وجود میں آئے۔ تل ابیب جیسے شہری مراکز نے ترقی کی اور مشرقی یورپی ممالک سے یہودی پناہ گزینوں کو راغب کیا۔

1930ء کی دہائی میں نازی حکومت کے اقتدار میں آتے ہی فلسطین میں یہودی پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ردِعمل کے طور پر عرب آبادی نے بھی اپنی قومی خودمختاری اور آزادی کے لیے مزاحمت کرنا شروع کی۔

نازی حکومت کے آتے ہی بڑی تعداد میں یہودی فلسطین کا رخ کرنے لگے—تصویر: ایکس

نازی حکومت کے آتے ہی بڑی تعداد میں یہودی فلسطین کا رخ کرنے لگے—تصویر: ایکس

برطانوی راج نے گرفتاریاں، کرفیو، گھروں کی مسماری، تشدد، ماورائے عدالت قتل اور فضائی بمباری کرکے عربوں کی بغاوت کی ان تحریکوں کو سختی سے کچل دیا جبکہ ان کارروائیوں میں بڑی تعداد میں فلسطینی ہلاک ہوئے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد اس خطے میں برطانوی راج دم توڑنے لگا اور اسے مالی مشکلات کا سامان کرنا پڑا۔ فلسطین کی صورتحال بھی کشیدہ رہی جس کے نتیجے میں بلآخر برطانوی راج کا اختتام ہوا اور مسئلہ فلسطین کی بال اقوامِ متحدہ کے کورٹ میں ڈال دی گئی۔

فلسطین-اسرائیل تنازع میں کچھ لوگوں کا مؤقف ہے کہ برطانوی راج نے عربوں کو فائدہ پہنچایا جبکہ کچھ کے مطابق اس کا جھکاؤ یہودیوں کی جانب تھا۔ درحقیقت برطانوی انتظامیہ کی بنیادی وفاداری براہِ راست اپنے مفادات سے جڑی تھی جس نے بےترتیبی پیدا کی۔

فلسطین کی تقسیم کا اقوامِ متحدہ کا منصوبہ

1947ء میں اقوامِ متحدہ نے فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کے حق میں ووٹ دیا جس میں سے ایک ریاست یہودیوں جبکہ ایک عربوں کو ملنی تھی۔ تاہم اس فیصلے سے امن قائم نہیں ہوسکا۔ اس کے بجائے اسرائیل اور ہمسایہ عرب ممالک کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا۔

اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ— تصویر: وکیپیڈیا

متحدہ محاذ پیش کرنے کے باوجود بنیادی طور پر ہر عرب ملک اپنے ذاتی مفادات کو آگے بڑھانا چاہتا تھا اور باہمی عدم اعتماد کا احساس غالب تھا۔ لبنانی اور مصری فوجیوں میں ایک دوسرے کے حوالے سے شکوک و شبہات موجود تھے جبکہ ٹرانس جارڈن موجودہ مغربی کنارے پر دعویٰ کرتے ہوئے نظر آیا۔

اس پیچیدہ صورتحال کی وجہ سے فلسطین میں افراتفری کے حالات پیدا ہوئے اور عام فلسطینیوں نے خود کو ان مشکل حالات کے درمیان پایا۔

نکبہ اور اس کے نتائج

جنگ ہوئی اور اسرائیلی ریاست کے قیام کے دوران نکبہ کی صورت میں فلسطینیوں کے لیے المیہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں کم سے کم 7 لاکھ 50 ہزار فلسطینیوں کو اپنے گھروں اور سرزمین سے بےدخل کیا گیا۔

اسرائیل کے بانی اور اس کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بین گوریون نے مغربی کنارے بشمول یروشلم، قدیم یروشلم اور غزہ پر قبضے کو روکنے کے لیے اقدامات کیے۔ یہ فیصلہ ان عرب پناہ گزینوں کی موجودگی کی وجہ سے ہوا جنہیں زبردستی اپنی زمین سے بےدخل کردیا گیا بلکہ انہیں اپنی آبائی سرزمین یعنی فلسطین واپس آنے کا موقع دینے سے بھی انکار کردیا گیا۔



برطانیہ کی ذمہ داری

2 نومبر کو اعلانِ بالفور کو 106 سال مکمل ہوئے جوکہ ایک انتہائی متنازع اور بغیر سوچے سمجھے جاری ہونے والا اعلان ہے کیونکہ اس میں خطے کی محدود تفہیم تھی اور اس کے باشندوں کے لیے زیادہ سوچا نہیں گیا تھا۔

اس تنازع کے لیے برطانیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے اور اس کے اقدامات پر غور کرنا چاہیے کیونکہ جب برطانیہ نے 1917ء میں کنٹرول سنبھالا تو آبادی کا 90 فیصد فلسطینیوں پر مشتمل تھا۔ تاہم جب وہ یہاں سے گئے تو فلسطینیوں کی اکثریت نے خود کو بے گھر اور پناہ گزین کیمپوں میں مقیم پایا۔

اعلانِ بالفور میں کیا گیا غیریہودی آبادی کے حقوق کے تحفظ کا وعدہ کہیں پیچھے رہ گیا اور برطانوی مینڈیٹ اور اسرائیل کی ریاست دونوں میں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔

چیمپئنز ٹرافی کیلئے آئی سی سی کو کی گئی درخواست انٹرنیٹ پر وائرل

 

چیمپئنز ٹرافی کیلئے آئی سی سی کو کی گئی درخواست انٹرنیٹ پر وائرل


ریکیاویک (ویب ڈیسک) کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان کو آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 کی میزبانی نہیں دی جائے گی جس کے بعد آئس لینڈ کرکٹ نے ٹورنامنٹ میزبانی میں دلچسپی ظاہر کردی۔
نجی ٹی وی آج نیو زکے مطابق آئس لینڈ کرکٹ نے سوشل میڈیا پر چیمپیئنز ٹرافی 2025 کی میزبانی میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ایک مزاحیہ پوسٹ میں کہا کہ بھارت کے سفر نہ کرنے کے موقف کی وجہ سے پاکستان کو میزبانی کے حقوق سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔

اپنی ٹویٹ میں آئس لینڈ کرکٹ نے لکھا کہ بھارت اور پاکستان نے سیاسی کشیدگی کی وجہ سے تقریبا ایک دہائی سے دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی اور متعدد رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹورنامنٹ کو دبئی منتقل کیا جاسکتا ہے۔
آئس لینڈ کرکٹ نے ٹورنامنٹ کی میزبانی کے لئے اپنے مشکل موسمی حالات اور معیاری کرکٹ گراؤنڈز کی کمی کے بارے میں کرکٹ کونسل کے چیئرمین کریگ بارکلے کو خط لکھا۔
ٹویٹ میں لکھا گیا کہ ہم ایسے لوگ نہیں جو پیچھے ہٹیں، ہم نے 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کے لیے اپنی بولی جاری کی اور ہم اس بات کو سننے کے منتظر ہیں کہ آئی سی سی چیئرمین گریگ بارکلے اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔
اس سے قبل آئس لینڈ کرکٹ نے ورلڈ کپ 2023 کے دوران کئی کھلاڑی پر تنقید کی تھی جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اسے آڑے ہاتھوں لیا گیا تھا۔

اس سے قبل آئس لینڈ کرکٹ نے سابق کپتان اور سٹار بلے باز بابر اعظم کو ایک بار پھر ہدف بنایا تھا جنہوں نے حال ہی میں تمام فارمیٹس کی کپتانی سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔

بابراعظم نے 9 میچوں میں 40 سے بھی کم کی اوسط سے 320 رنز اسکور کیے، آئس لینڈ کرکٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بابر اعظم کو ان کی بیٹنگ اوسط پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایک پوسٹ میں لکھا گیا تھا کہ ’ایسی کیا چیز ہے جو وبائی مرض کے بعد بھی معمول پر نہیں آئی؟‘ اس کے جواب میں آئس لینڈ کرکٹ نے کہا کہ وہ بابر اعظم کی بیٹنگ اوسط ہے جو وبائی مرض کے بعد بھی معمول پر نہیں آئی۔

نابینا نجومی بابا وانگا کی 2024 کیلئے کی گئیں اہم پیشگوئیاں سامنے آ گئیں

نابینا نجومی بابا وانگا کی 2024 کیلئے کی گئیں اہم پیشگوئیاں سامنے آ گئیں



 معروف خاتون نابینا نجومی آنجہانی بابا وانگا جن کا تعلق بلغاریہ سے تھا،انہوں نے گزشتہ سالوں کی طرح 2024 کے حوالے سے بھی مرنے سے قبل کچھ پیش گوئیاں کی تھیں جو کہ سامنے آ گئی ہیں۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق بابا وانگا کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ قدرت نے انہیں ایسی نعمت سے نوازا تھا کہ وہ مستقبل کا بتادیا کرتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ آنجہانی نجومی کی کئی پیشگوئیاں درست ثابت ہوئیں۔


بابا وانگا کے ماننے والوں کے مطابق آنجہانی نجومی کی شہزادی ڈیانا کی موت، سویت یونین کے خاتمے ، جرمنی کے مشرق اور مغرب کے اتحاد،2004 میں تھائی لینڈ کے سونامی ، عالمی وبا کورونا وائرس اور 2022 کے حوالے سے کی گئی پیشگوئیاں یعنی خطرناک زلزلے اور سیلاب کا خطرہ اور پینے کے پانی کی قلت سچ ثابت ہوئی۔

بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی آنجہانی بابا وانگا ایک حادثے میں نابینا ہوئی تھیں جن کے مطابق یہ کہا جاتا ہے کہ ان میں مستقبل دیکھنے کا ہنر قدرتی طور پر موجود تھا۔بابا وانگا کی پیدائش 1911 میں جبکہ موت 1996 میں ہوگئی تھی، اس وقت ان کی عمر 85 برس تھی، لیکن مرنے سے قبل وہ دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے واقعات کی پیشگوئیاں کر گئی تھیں ، ان میں سے ایک 9/11 کی مبینہ پیشگوئی بھی تھی۔


 بابا وانگا کی پرورش رومانیہ میں ہوئی، تاہم جب وہ 12 برس کی تھیں تو رومانیہ میں شدید مٹی کا طوفان آیا جس میں وہ نابینا ہوگئیں۔

یہ ناصرف جڑی بوٹیوں کی حکیم بلکہ مذہبی پیشوا بھی تھیں جنہوں نے سال 5079 تک کی پیش گوئیاں کی ہیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس کے بعد دنیا کا اختتام ہوجائے گا۔


سال 2023 کے ختم ہونے میں تقریباً صرف ایک مہینہ رہ گیا ہے، گزشتہ سالوں کی طرح آنے والے سال 2024 کے لیے بھی آنجہانی بابا وانگا نے کچھ پیش گوئیاں کی تھیں۔بابا وانگا کے مطابق2024 میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر اپنے ہی ملک کے باشندے کی جانب سے قاتلانہ حملہ کیا جائے گا۔آنجہانی بابا وانگا نے پیش گوئی کی تھی کہ یورپ میں دہشت گرد حملوں کی تعداد بڑھ جائے گی جبکہ ایک بڑا ملک 2024 میں بائیولوجیکل ہتھیاروں کے تجربے یا حملے کرے گا۔بابا وانگا کے مطابق 2024 میں ایک بہت بڑا معاشی بحران آئے گا جو عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کرے گا جبکہ قرضوں کی شرح اور بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ میں اضافہ ہوگا۔

آنجہانی بابا وانگا نے پیش گوئی کی تھی کی اگلے سال دنیا کو خوفناک موسمیاتی تباہ کاریاں اور قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑے گا۔بابا وانگا کے مطابق 2024 میں دنیا میں سائبر حملوں میں اضافہ ہوگا۔ اعلیٰ درجے کے ہیکرز پاور گرڈز اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس جیسے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائیں گے، جس سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گا۔آنجہانی بابا وانگا نے پیش گوئی کی تھی کہ 2024 میں الزائمر اور کینسر سمیت لاعلاج بیماریوں کے نئے علاج دریافت ہوجائیں گے۔بابا وانگا نے یہ بھی پیش گوئی کی تھی کہ 2024 میں کوانٹم کمپیوٹنگ میں ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

آنجہانی نجومی کی پیش گوئیوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ وانگا کی پیش گوئیاں 68 فیصد درست ہیں، جب کہ ان کے پیروکار اسے تقریباً 85 فیصد درست قرار دیتے ہیں۔آنجہانی نجومی کی جہاں کئی پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں، وہیں بہت ساری ایسی بھی تھیں جو سچ نہیں ہوئیں۔

پیر، 27 نومبر، 2023

اسلام آباد: آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہےکہ ایس پی اڈیالہ جیل کی سکیورٹی رپورٹ کی روشنی ٹرائل جیل میں ہوگا جس کی اوپن سماعت کی جائے گی


 اسلام آباد: آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہےکہ ایس پی اڈیالہ جیل کی سکیورٹی رپورٹ کی روشنی ٹرائل جیل میں ہوگا جس کی اوپن سماعت کی جائے گی

اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت میں سائفر کیس کی سماعت جاری ہے جس سلسلے میں چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا اور ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹرز عدالت میں پیش ہوئے جب کہ عمران خان کی بہنیں اور شاہ محمود کی بیٹی بھی عدالت میں موجود ہیں۔ْ

سماعت کے آغاز پر وکیل صفائی سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر کیس کا ٹرائل آج سماعت کے لیے مقرر ہے، ہم امید کررہے ہیں کہ عمران خان کو پیش کیا جائے گا، ابھی تک انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، یہ ریکارڈ کیس ہے اتنی رفتار سے کبھی کیس نہیں چلا۔

اس دوران جج ابوالحسنات نے عدالتی عملے کو کیس کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔


دوران سماعت جیل حکام نے چیئرمین پی ٹی آئی کی عدالت میں پیشی سے متعلق رپورٹ پیش کی جس کا جج نے جائزہ لیا اور کہا کہ جیل حکام کا کہنا ہے کہ عمران خان کو پیش نہیں کرسکتے

ایس پی اڈیالہ جیل کا عدالت کو خط

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو خط لکھا جو ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے عدالت میں پڑھا۔


خط میں کہا گیا ہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سکیورٹی وجوہات کے باعث عدالت میں پیش نہیں کرسکتے،اسلام آباد پولیس کو اضافی سکیورٹی کے لیے خط لکھا، بتایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سنجیدہ نوعیت کے سکیورٹی خدشات ہیں۔


سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اسلام آباد پولیس کی رپورٹ بھی جیل رپورٹ کےساتھ منسلک کی ہے

ایس پی جیل کے خط پر وکیل صفائی کا اعتراض

ایس پی اڈیالہ جیل کے خط میں وکیل صفائی نے کہا کہ اسلام آباد میں دہشتگرد گھسے نہ کوئی ایسا دہشتگردانہ واقعہ پیش آیا ، چیئرمین پی ٹی آئی کو آج ہی عدالت میں پیش تو کرنا پڑےگا، کن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ پر سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش نہیں کیا، 50 سے 60 مقدموں میں عمران خان کے ساتھ عدالت میں پیش ہو چکاہوں۔


سلمان صفدر نے کہا کہ کون سی تخریب کاری ہوئی ہے جو چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت نہیں لائے، مجھے صبح ہی آثار نظر آگئے تھے کہ انہیں نہیں لانا، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اسلام آبادہائیکورٹ اور آپ کے فیصلے کی خلاف وزری کی ہے۔


وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آپ کے ایک حکم پر ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش کیاجائے، آپ بھی حیران ہیں، ہم بھی حیران ہیں اور پراسیکیوشن بھی حیران ہے۔


اس دوران وکیل سلمان صفدر نے ایس پی اڈیالہ جیل کا خط پڑھنے کو مانگ لیا جس پر جج نے کہا کہ پہلا پیج دیکھ لیں، دیگر کانفیڈینشل صفحات ہیں۔


عمران خان کے وکیل نے کہا کہ اگرسائفرکیس جیل میں بھی نہیں چل سکتا، عدالت میں نہیں چل سکتا، توکہاں چلےگا؟ اس پر جج نے کہا کہ ٹینشن نہ لیں، عدالت مناسب فیصلہ کرےگی، میں نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود کو عدالت میں پیش کرنے کا آرڈر دیا تھا، سکیورٹی ہے یا نہیں، اس کو تو میں دیکھتاہوں، 352 سیکشن کے مطابق اوپن کورٹ سماعت ہوگی، جتنے مرضی نوٹیفکیشن آئیں مجھے اس سے کوئی غرض نہیں، کوئی بھی دوران سماعت آنا چاہتا ہے مجھے کوئی غرض نہیں، مجھے سائفرکیس میں اوپن ٹرائل سے غرض ہے، غیرقانونی نوٹیفکیشن پرجیل ٹرائل ہوا، عدالت کے فیصلے کے مطابق نہیں ہوا، سائفرکیس کی سماعت بے شک کمرہ عدالت سے باہر لگا لیں، میں جوڈیشل آرڈر پاس کروں گا، آئسولیشن میں نہیں جانے دیاجائےگا۔


وکیل سلمان صفدر نے 2 بجے تک چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش کرنے کی استدعا کردی اس پر جج نے کہا کہ اس معاملے پر آرڈر پاس کروں گا۔


بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد عمران خان اور شاہ محمود کی پیشی سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا جو کچھ دیر بعد سنایا جائیگا۔


بابر کو کپتانی سے ہٹانے کی تجویز کب زیر غور آئی؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی


 بابر کو کپتانی سے ہٹانے کی تجویز کب زیر غور آئی؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

بھارت میں ہوئے آئی سی سی ون ڈے ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی ناقص رہی، ٹورنامنٹ میں بابر اعظم خود سے وابستہ توقعات بھی پوری نہ کرسکے۔ 


ذرائع کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران پی سی بی کے حلقوں میں یہ تجویز زیر غور تھی کہ بابر اعظم کو قیادت سے سبکدوش کردیا جائے تاکہ وہ اپنی بیٹنگ پر توجہ دیں، تاہم انہیں کپتانی سے ہٹانے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ 


پی سی بی حکام ان کی من مانیوں اور دفاعی انداز کی وجہ سے انہیں کپتانی سے بریک دینا چاہتے تھے۔ 

انضمام الحق جس وقت چیف سلیکٹر تھے اس وقت بھی بابراعظم کی کپتانی زیر غور تھی البتہ انضمام الحق کے جانے کے بعد مکی آرتھر اور عبوری سلیکٹرز توصیف احمد، وجاہت اللہ واسطی اور وسیم حیدر نے کپتان تبدیل کرنے کی تجویز پر غور کیا تھا لیکن شان مسعود کو کپتان بنانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں آئی تھی۔ 


مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ محمد حفیظ، وہاب ریاض اور شان مسعود نے آسٹریلیا کے دورے کے لیے جس ٹیسٹ ٹیم کا اعلان کیا ہے اس سے ملتی جلتی ٹیم مکی آرتھر اور قومی سلیکٹرز نے تشکیل دی تھی۔ 


ان کی ٹیم میں حارث رؤف بھی شامل تھے لیکن بعد میں حارث رؤف نے آسٹریلیا کا دورہ کرنے سے معذرت کر لی تھی۔

اتوار، 26 نومبر، 2023

سرکاری ملازمین کیلئے اچھی خبر

 

سرکاری ملازمین کیلئے اچھی خبر


سرکاری ملازمین کیلئے اچھی خبر پینشن تجاویز مسترد
لاء ڈیپارٹمنٹ نے وفاقی حکومت کے پینشن اصلاحات کے تجاویز مسترد کردئیے۔
لاء ڈیپارٹمنٹ نے حکومت کے پینشن رولز میں مجوزہ ترامیم سے اختلاف کیا کہ
یہ ترامیم سول سرونٹ ایکٹ 1973ء رولز کے خلاف ہے اور عدالتی کاروائی میں ان ترامیم کو ڈیپینڈ نہیں کیا جاسکتا لہٰذا تجاویز سے اتفاق نہیں کرسکتے۔ 
مراسلہ جاری

 It is intimated for pleasure of all  pensioners that the Summary of Finance Division for the Cabinet regarding major pension reforms, was referred to the law Division by the Prime Minister for their opinion. Law Division has strongly opposed the proposal and opined that "it shall infringe vested rights accrued to existing civil servants under sub-section (2) of section 3 of the Civil Servants Act 1973 and in case the pension scheme is revised as proposed by the Finance Division unilaterally, it shall lead to influx of litigation and shall not pass the test of judicial scrutiny". Congrats to all.
Regards
تمام پنشنرز کی خوشی کے لیے مطلع کیا جاتا ہے کہ اہم پنشن اصلاحات سے متعلق کابینہ کے لیے فنانس ڈویژن کی سمری وزیر اعظم نے ان کی رائے کے لیے لاء ڈویژن کو بھجوائی تھی۔ لاء ڈویژن نے اس تجویز کی سختی سے مخالفت کی ہے اور رائے دی ہے کہ "یہ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے سیکشن 3 کے ذیلی سیکشن (2) کے تحت موجودہ سرکاری ملازمین کے حاصل کردہ حقوق کی خلاف ورزی کرے گا اور اگر پنشن اسکیم پر نظرثانی کی گئی ہے جیسا کہ خزانہ کی تجویز ہے۔ یکطرفہ طور پر تقسیم، یہ قانونی چارہ جوئی کا باعث بنے گی اور عدالتی جانچ کے امتحان میں کامیاب نہیں ہوگی۔" سب کو مبارک ہو۔

ایک اور کم عمر ڈرائیور کی کار کو ٹکر، منع کرنے پر فائرنگ کروا دی

 

ایک اور کم عمر ڈرائیور کی کار کو ٹکر، منع کرنے پر فائرنگ کروا دی

لاہور میں ایک اور کم عمر ڈرائیور نے کار کو ٹکر مار دی، منع کرنے پر فائرنگ کروا دی جس سے زخمی ہونے والی میڈیکل کی طالبہ ہسپتال میں دم توڑ گئی، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق لاہور کے علاقے چوہنگ میں ایک اور کم عمر ڈرائیور کے بااثر خاندان کا گھناونا چہرہ سامنے آیا جس میں انہوں نے کار حادثے کے بعد فائرنگ کر کے نہ صرف میڈیکل کی طالبہ کو قتل کر دیا بلکہ اس کے خاندان کو ڈرا دھمکا کر زبردستی کی صلح پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ 

بتایا گیا ہے کہ چوہنگ کے علاقے میں میڈیکل کالج کی طالبہ کی ہلاکت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کے مطابق کم عمر ڈرائیور نے زگ زیگ گاڑی چلاتے ہوئے دوسری گاڑی کو ٹکر مار دی جس میں سوار افراد نے کم عمر ڈرائیور کو منع کیا جس پر اسے طیش آ گیا اور اس نے ماموں سمیت دیگر افراد کو بلا لیا۔

کم عمر ڈرائیور کے ماموں نے آ کر دوسری کار پر فائرنگ کر دی جس کے سبب اس میں سوار میڈیکل کالج کی طالبہ شدید زخمی ہو گئی، اسے ہسپتال منتقل کیا گیا جس نے دوران علاج دم توڑ دیا۔

ایف آئی آر کے مطابق مقتول طالبہ کا خاندان سعودی عرب سے لاہور منتقل ہوا تھا، انہوں نے تحفظ فراہم کرنے کیلئے نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کو خط لکھ دیا۔

زہریلی فضائیں

 

زہریلی فضائیں

جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس وقت ہر شےخوبصورت تھی یا خوبصورت لگتی تھی ۔ شہر، قصبے، گاؤں، ندی نالے، چشمے، نہریں، ندیاں، دریا، پہاڑ، سڑکیں، کچے پکے راستے پگڈنڈیاں اور کھیت ، سب کچھ حسین تھا ۔ماحول، صاف ستھرا، موسم اپنے وقت پر بدلتے، کسان وقت پر فصل  بوتے وقت پر کاٹتے۔ سب کچھ فطرت کے اصولوں کے مطابق تھا ۔ اس لیے انسان  خوش تھے۔ لیکن اب افسوس ہوتا ہے کہ کئی دہائیاں گزرنے کے بعد پاکستان اب پہلے  جیسا نہیں رہا ۔ پہلے آسمان میں ستاروں کی جھلملاہٹ صاف نظر آتی تھی لیکن اب تو ستارے دیکھنے سے بھی بمشکل نظر آتے اب پاکستان کی فضائیں زہریلی ہو چکی ہیں صاف شفاف ہوا آلودہ ہو چکی ، ندیاں چشمے اور دریا ، بد بودار ہو چکے ، زہریلی گیسوں اور دھوئیں نے آسمان کے محفوظ خطوں کو پھاڑنا شروع کر دیا اور سموگ کی شکل اختیار کر لی ہے جس  سے خوفناک بیماریاں، تیز رفتاری سے پھیل رہی ہیں شہریوں کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے ۔ہم اور ہمارے سیاست دان شروع  میں تو آنکھیں بند کیے بیٹھے رہے لیکن اب حالات بد سے بدتر ہو گئے ہیں پنجاب میں خاص طور پر لاہور میں صورتحال کافی نازک ہو چکی  پہلے پہل دھند ہوتی تھی لیکن اس میں شفافیت تھی  لیکن اب  یہ زہر آلود نہ ہوچکی ہے اور آئندہ برس اس کے پھیلاؤ اور زہر میں مزید اضافہ ہو گا  اور یہ انتہائی الارمنگ سچئویشن ہےفضا ئی آلودگی   یا سموگ کے پھیلاؤ میں ہم سب ذمہ دار ہیں یہ ایک عالمی مسئلہ بھی ہےلیکن ہم عالمی حالات تو  بدل نہیں سکتے اس لیے بہتر ہو گا کہ پہلےاپنے گھر پر توجہ دیں اور ایسے انتظامات کریں جن سے یہ ابتر صورتِ حال بہتر ہو سکے حکومت کو بھی شاید اب ہوش آ گیا ہے وہ بھی اقدامات کرنے میں مصروف عمل ہیں لیکن ہر ممکن کوشش کے باوجود قدرت کے کاموں میں مداخلت نہیں کی جا سکتی خدا ہم سے راضی ہو جائے تو شاید برسات ہو اور تغیر میں کچھ بہتری آئے ۔ اس کےعلاوہ  کچھ فوری نوعیت منصوبے بنائے جا سکتے ہیں آج کل گاؤں ، قصبوں اور شہروں تک گاڑیاں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ گاڑیوں کا چلنا محال ہو چکا ہے اس بے ہنگم  ٹریفک  سے ڈیزل، پٹرول اور گیس کے اخراج ہونے سے فضا اس قدر آلودہ ہو چکی ہے کہ  ماسک پہننا ضروری قرار دیا جا چکا ہے۔گاؤں میں فصلوں کی کٹائی کے بعد جلانے والا عمل بھی سموگ یا فضائی آلودگی کا سبب بنتا ہے، بھٹوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں انتہائی زہریلا ہوتا ہے جو کہ سانس کی بہت سی بیماریوں کا سبب بنتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مضر صحت دھویں والی فیکٹریوں اور بھٹوں کو شہروں سے دور بنایا جائے۔  اس کے علاوہ  سڑکوں ، شاہراہوں پر، پبلک ٹرانسپورٹ لائی جائے ،اس عمل سے گاڑیوں، موٹرسائیکلوں کی تعداد میں کمی واقع ہو گی اور سڑکوں پر رش بھی کم ہو جائے گاسکولوں ،کا لجوں،یونیورسٹیوں کو بسیں مہیا کی جائیں تا کہ طالب علم گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں کی بجائے بسوں میں سفر کریں
سائیکل کو زیادہ اہمیت دی جائے اور کوشش کر کے ایک آگاہی مہم چلائی جائے جس میں سائیکل کے فوائد بتائے جائیں  اور لوگوں کے لیے  کم قیمت پر فراہمی ممکن بنائی جائے۔ 
ملکی سائنسدانوں کو اس مسئلے کے حل کے لیے معمور کیا ، جہاں تک ممکن ہو سکے اس کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں بیرون مملک سے بھی اس کے حل کی تجاویز لی جائیں  تا کہ وہ ایسے آلات ایجاد کریں جو آلودگی روکنے میں معاون ثابت ہوں۔ریل گاڑی کے سفر کو عام کیا جائے اور اسے جدید اور آرام دہ بنایا جائے یہ آلودگی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے 
آلودگی کو کم کرنے کے لیے نچلی سطح تک لوگوں میں آگاہی مہم شروع کی جائے۔ تا کہ لوگ اس مسئلے کو سمجھ سکیں۔ اور آلودگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں  ملک میں شجر کاری ہر سال کی جاتی ہے لیکن ابھی تک اس کے خاطر خواہ  فوائد نظر نہیں آئے ۔ درخت قدرت کا عطیہ ہیں،ہمیں  مفت آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ درختوں کو کاٹنا ایک قومی جرم قرار دیا جائےاور اس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے ۔ فیکٹریاں اور کارخانے زہریلے مواد کی Treatmentنہیں کرتے ان پر نہ صرف جرمانے کیے جائیں بلکہ اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں تو ان کا رخانوں فیکٹریوں کو بند کر دیا جائے۔ افسوس کہ ماحولیات کا محکمہ تو ہمارے ملک میں موجود ہے لیکن اس کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس محکمے اور وزیر کو بااختیار کیا جائے اور متحرک کیا جائے تو جلد ہی  اس کے اثرات نظر آنے لگیں گے اور ہماری آلودہ  فضا  اپنی اصل حالت کی طرف لوٹ آئے گی۔ان منصوبوں پر اگر آج سے ہنگامی بنیادوں پر عمل شروع کیا جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ برس فضائی آلودگی میں کافی حد تک کمی واقع ہو چکی ہو گی۔اس کے علاوہ  فیکٹریوں ، کارخانوں، اور ندی نالوں کا قریہ قریہ گاؤں گاؤں جائزہ لے کر ان کا حل تلاش کرنا ہو گا۔ فیکٹریوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں روکنے کے لیے سائنسی ذرائع اختیار کرنے پڑیں گے۔ اس کے علاوہ  کارخانوں اور اسپتالوں اور شہروں کا کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے مستقل حل تلاش کرنا  ہوں گے ۔ صرف یہی نہیں قدرت کی حسین وادیاں جو کہ قدرت کا حسین شاہکار ہیں انکو بھی آلودہ ہونے سے بچانے کیلیے اقدامات کرنے ہوں گے۔  مری  جسے کبھی ملکہ کوہسار کہا جاتا تھا اب وہاں کی فضا میں بھی گاڑیوں کے دھویں  کی ملاوٹ صاف نظر آتی ہے۔ملک سے آلودگی کا صفایا  انتہائی ضروری ہے اگر ہم آلودگی کو نہ مٹا کسے تو آلودگی ہمیں مٹا دے گی۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی میں ناجائز تعلقات تھے خاور مانیکا، درخواست دائر

 

عمران خان اور بشریٰ بی بی میں ناجائز تعلقات تھے

  خاور مانیکا،  درخواست دائر

سینئر سول جج اسلام آباد ،قدرت اللہ کی عدالت میں بشریٰ بی بی کے سابق شوہر، خاور فرید مانیکا نے ایک درخواست کے ذریعے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے خلاف، نکاح سے قبل ناجائز تعلقات، دوران عدت نکاح پڑھوانے اور لاہور میں نکاح پڑھوانے کا ڈرامہ رچانے کے الزامات میں قانونی کارروائی کرنے کی استدعا کی ہے جبکہ فاضل جج نے ان کا بیان قلمبند کرکے کیس کی سماعت28 نومبر تک ملتوی کردی ہے .

درخواست گزار ،خاور فرید مانیکا نے ہفتہ کے روزسینئر سول جج کی عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 200کے تحت پرائیویٹ کمپلینٹ داخل کرتے ہوئے بشری بی بی اور عمران خان کیخلاف، نکاح سے قبل ناجائز تعلقات، دوران عدت نکاح اور لاہور میں نکاح پڑھوانے کا ڈرامہ رچانے کے الزام میں شادی شدہ خاتون کے نکاح پر نکاح پڑھوانے اور دھوکہ دینے کے لئے شادی کی جعلی رسومات ادا کرنے سے متعلق تعزیرات پاکستان کی دفعہ ہاء 449اور496کے تحت قانونی کارروائی کرنے کی استدعا کی ہے .

 درخواست گزار نے بیا ن کیا ہے کہ عمران خان کی ہمارے گھریلو امور میں مداخلت سے قبل ہم دونوں ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے تھے.

یو اے ای میں مقیم سالی مریم نے پی ٹی آئی کے دھرنا کے دوران عمران خان کے ساتھ ہمارا تعارف کروایا ،مجھے قوی یقین کے کہ مریم کے یہودی لابی سے گہرے تعلقات ہیں ،عمران خان ʼʼپیری مریدی ʼʼکی آڑ میں ہمارے خاندان میں داخل ہوا،میری عدم موجودگی میں بھی ہمارے گھر کے چکر لگانا شروع کردیئے .

اس کا یہ رویہ غیر خلاقی و غیر اسلامی تھا ،کیونکہ اس کے پاس یاک نامحرم خاتون کے پاس جانے کا کوئی جواز نہیں تھا ،جب یہ آمدورفت زیادہ ہوگئی تو میں نے ایک دفعہ اسے گھر سے باہر نکلوادیا ،جن دنوں وہ ہمارتے گھر آرہا تھا اس کے ہمرا زلفی بخاری بھی ہوتا تھا ،جس کا میری اہلیہ کے ساتھ پیری مریدی سے بھی کوئی تعلق نہ تھا .

درخواست زگار کے مطابق زلفی بخاری بعض اوقات اکیلا بھی آتا تھا ،ان دونوں کے میرے علم کے بغیر میری اہلیہ کے ساتھ تعلقات ،ہمارے گھر آنے جانے ،اور اس کے بنی گالہ میں عمران کے گھر جانے سے مجھے قوی یقین ہوگیا کہ ان کے مابین ناجائز تعلقات ہیں، انکے جعلی نکاح کی اطلاع مجھے ہمارے گھریلو ملازم لطیف نے دی تھا ،جس نے اس سے قبل عمران کو ہمارے گھر سے زبردستی باہر نکالا تھا.

درخواست گزار کے مطابق میرے یقین کی دوسری وجہ ہے کہ رات دیر گئے تک ان دونوں کی ٹیلی فون پر لمبی گفتگو چلتی تھی ، فرح گوگی نے عمران خان کے کہنے پر بشریٰ بی بی کو ٹیلی فون اور سم فراہم کی تھی.

اس ساری صورتحال پر میں نے احتجاج کیاا ور میرے اور بشریٰ کے مابین سخت تلخ کلامی ہوئی تو اس نے مجھے عمران خان کے ساتھ روحانی تعلقات کی داستان سنا کر خاموش کروا دیا ،چونکہ میری دو بچیاں شادی شدہ اور ایک بیٹے کی شادی ہونے والی تھی ،اس لئے ا س سب کچھ کے باوجود میں نے اپنے خاندان کی عزت اور بچوں کے لئے مصالحت کی کوشش کی.

درخواست گزار کے مطابق اسلام آباد دھرنا سے لیکر 14نومبر 2017تک یہی معاملات جاری رہے ،جس پر میں نے بے دلی کے ساتھ اسے طلاق دے دی کہ شاید میرے اس اقدام سے عمران خان اس معاملہ کو سنجیدگی سے لے گا ۔

تحریک انصاف کے مزید 50 رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج، دفعات کون سی لگائی گئیں، گرفتاریاں کتنی ہوئیں؟

 

تحریک انصاف کے مزید 50 رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج، دفعات کون سی لگائی گئیں، گرفتاریاں کتنی ہوئیں؟

دیر بالا میں تحریک انصاف کے 50 رہنماؤں کے خلاف عوام کو اشتعال دلانے سے متعلق مقدمات درج کر لئے گئے۔

نجی ٹی وی ڈان نیوز کے مطابق پولیس نے تحریک انصاف کے 50 رہنماؤں پر پرچے کاٹ لئے، ان پر عوام کو اشتعال دلانے کی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے۔  تھانہ صاحب پولیس نے 5 پی ٹی آئی رہنماوں کو گرفتار بھی کر لیا۔ یہ امر قابل ذکر ہےکہ پی ٹی آئی کے صدر پرویز الہیٰ، یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری سمیت کئی رہنما حراست میں ہیں۔ 

دوسری جانب دیر بالا میں تحریک انصاف کا آج جلسہ ہے جس کیلئے پارٹی چیئرمین عمران خان کا خطاب بھی متوقع ہے۔

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان 15 دن کی بجائے کتنے دن بعد کرنے کا فیصلہ کر لیا ؟ بڑی خبر

 

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان 15 دن کی بجائے کتنے دن بعد کرنے کا فیصلہ کر لیا ؟ بڑی خبر

 پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل سے متعلق حکومت نے نیا طریقہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
 نجی ٹی وی" جیونیوز" کے مطابق وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 15 روز کے بجائے 7 روز  بعد تبدیل کرنےکا پلان تیار کر لیا ہے۔اس سلسلے میں پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور اسٹیک ہولڈز سے مشاورت کیلئےخط جاری کیا گیا ہے،نئے پلان کیلئے اسٹیک ہولڈز سے 5 روز میں تجاویز طلب کی گئی ہیں۔آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 7 روز بعد کے پلان کو مسترد کر دیا ہے۔
چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن عبدالسمیع خان کا کہنا ہے کہ ہر ہفتے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین نہیں کیا جاسکتا، ہم نے15 روز کے بجائے 30 روز پر قیمت کے تعین کی تجویز دی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ہر ہفتے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت کے تعین سے پمپس تباہ ہوجائیں گے، ایسے فیصلے نہ کیےجائیں جس سے مسائل پیدا ہوں۔